عزم صمیم

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - سچا ارادہ، پختہ ارادہ۔ "وسیع پیمانے پر ترقیاں کرنے کا عزم صمیم کر لیں۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کی کہانی، ٦٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب توصیفی ہے۔ عربی زبان سے مشتق اسم 'عزم' بطور موصوف اور عربی ہی سے مشتق اسم صفت 'صمیم' لگا کر مرکب 'عزم صمیم' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٥٦ء کو "فکر سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سچا ارادہ، پختہ ارادہ۔ "وسیع پیمانے پر ترقیاں کرنے کا عزم صمیم کر لیں۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کی کہانی، ٦٦ )

جنس: مذکر